بلوچستان کے70 کی گوریلہ جنگ ...نوبل انعام یافتہ معروف برطانوی ناول نگار وی۔ ایس۔ نائیپال کی کتاب “بی آئنڈ بیلیف” کے ایک باب “گوریلا” کا ترجمہ
تحریر : وی ایس نائپل ترجمہ : زبیر دہانی تعارف: زیر مطالعہ مضمون نوبل انعام یافتہ معروف برطانوی ناول نگار وی۔ ایس۔ نائیپال کی کتاب “بی آئنڈ بیلیف” کے ایک باب “گوریلا” کا ترجمہ ہے۔ اِس باب کا موضوع بحث بلوچستان کی 70 کی دہائی کی صورتِ حال ہے۔ اِس باب کا مرکزی کردار شہباز ہے ۔ شہباز ایک فرضی نام ہے۔ یہ فرضی نام احمد رشید کا ہے جو ایک معروف صحافی ہیں اور “طالبان” و “جہادی” نامی شہرت یافتہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام 1945 پر جب شہباز کے والد برطانوی انڈین آرمی سے سبکدوش ہوئے تو اُنہوں نے برطانیہ جاکر بسنے پر غور کیا۔ کیونکہ جنگ سے پہلے کُچھ بھارتی شہزادے بھی انڈیا کی ایک کالونی ہونے کے باوجود اسی طرح برطانیہ جا کر بس گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو دولت اور شہرت کے باعث کافی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے شہباز کے والد کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی تھی کہ انڈیا اور پاکستان کو ملنے والی آزادی کے بعد کسی مُسلمان آبادکار کو وہاں اتنی ہی عزت کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ اسی طرح برصغیر کے دوسرے مُسلمانوں کا بھی یہی خیال تھا۔ ان کے ذہن، ملنے والی اس آزادی پر کہی...
Comments
Post a Comment